بنگلورو،15؍اپریل (ایس او نیوز ) ریاست کرناٹک میں کو وڈ۔ 19 کے بڑھتے ہوئے معاملوں کو د یکھتے ہو ئے ریاست میں لاک ڈاؤن کرنا چاہئے یانہیں ، اس پر صلاح مشورہ کر نے کے لئے وزیراعلی بی ایس ایڈی یور پانے 18 ؍اپریل کو آل پارٹی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس آل پارٹی اجلاس میں کانگریس اور جے ڈی ایس لیڈ روں کو مدعو کر کے ان سے لاک ڈاؤن نافذ کرنے سے متعلق صلاح مشورہ کیا جائے گا۔
دستور ہند کے معمار ڈاکٹر بی آ را مبیڈ کر کی آج سالگرہ کے موقع پر ودھان سودھا کے رو برو ڈاکٹر امبیڈ کر کے مجسمہ پرگل چڑھانے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کر تے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 18 ؍اپریل کو وہ آل پارٹی اجلاس طلب کر ر ہے ہیں ، اس اجلاس میں لاک ڈاؤن سے متعلق اپوزیشن لیڈ روں سے مشورہ کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ریاست میں کو وڈ ۔ 19 پر قابو پانے کے لئے سوائے لاک ڈاؤن کے دیگر تمام احتیاطی تدابیر کی جارہی ہیں ۔اس کے علاوہ رات میں کورونا کر فیو بھی نافذ کیا گیا ہے ۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ مہاراشٹرا میں وباء تیزی سے پھیل رہی ہے اور متاثرین کی تعداد بھی زیادہ ہے ۔اس لئے وہاں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ کرناٹک میں صورتحال اتنی خراب نہیں ہے ۔کوشش کی جارہی ہے کہ جو احتیاطی تدابیر کی گئی ہیں، اسی سے وباء پر قابو پالیا جائے ۔ بشرطیکہ اس میں عوام کا بھر پور تعاون بھی شامل ہو۔ اس کے باوجود آئندہ 18 اپریل کو منعقد ہور ہے آل پارٹی اجلاس میں اپوزیشن لیڈروں سے صلاح مشورہ کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ کورونا کے بڑھتے ہوئے معاملات کی وجہ سے ویک اینڈ ( ہفتے کے آخری دودن یعنی ہفتہ اور اتوار ) میں لاک ڈاؤن کر نے کی فی الحال کوئی تجویز نہیں ہے ۔اگر ضرورت پڑی تو مزیداضلاع میں رات کا کر فیو نافذ کیا جائے گا۔لاک ڈاؤن نافذ کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ 18 ؍اپریل میں کے اجلاس میں کیا جا ئے گا۔
لاک ڈاؤن کی تجویز نہیں : ریاستی وزیر برائے داخلہ امور و قانون بسوراج بومئی نے کہا کہ دوسرے مرحلہ کے کورونا وجہ سے ریاست میں لاک ڈاؤن کرنے کی تجویز فی الحال حکومت کے زیر غورنہیں ۔
بیدر کے ہنما آباد میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست میں لاک ڈاؤن تو نافذ نہیں کیا گیا ہے، اس کے علاوہ حکومت نے دوسرے مرحلہ کے کورونا پر قابو پانے کے لئے سخت احتیاطی تدابیر کی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ پچھلی مرتبہ جب کور و نا پھیلا تھا تو ہمیں اس پر قابو پانے اور علاج کی سہولت اور تجر بہ نہیں تھا۔ اس لئے ہمیں لاک ڈاؤن کرنا پڑا لیکن اس بار ہمارے پاس کورونا سے لڑنے اور علاج کے ذرائع بھی ہیں ۔سب سے بڑھ کر کورونا ویکسین ایجاد ہو چکا ہے ۔اب ہم میں کورونا سے لڑنے اور علاج کرنے کی سہولیات موجود ہیں ۔عوام سے انہوں نے اپیل کی کہ اگر کور ونا کو ہمیں جلد سے جلد بھگانا ہے تو عوام کو حکومت کے جاری رہنما خطوط پر سختی سے عمل کر نا ہوگا ۔ اس سے نہ صرف ہمارا خود کا فائدہ ہوگا بلکہ کورونا کو بھگانے میں مدد بھی ملے گی ۔انہوں نے نے کہا کہ جن کی عمر 45 برس سے زیادہ ہے وہ ضرور ویکسین لگوالیں۔